واپس وطن پہنچتے ہی وزیراعظم کابڑااقدام ۔۔۔۔ دو مذہبی جماعتوں کے مستقبل کا فیصلہ کرلیا




سرگودھا(ویب ڈیسک) ذرائع کے مطابق حساس اداروں کی رپورٹس محکمہ داخلہ کی منظو ری کے بعد پنجاب میں دو مذہبی جماعتوں پر پا بند ی عا ئد کر کے انہیں کا لعد م تنظیموں کی فہرست میں شامل کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ ہنگامہ آرائی توڑ پھوڑاور گھیراؤ جلاؤ کے واقعات میں ملوث 100 سے زائد افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کے لئے

فہرستوں کو حتمی شکل دی جارہی ہے ۔ذرائع کے مطابق 31 اکتوبر سے 4 نومبر کے درمیان پنجاب کے مختلف علاقوں میں بدترین ہنگامہ آرائی توڑ پھوڑ کے واقعات کے پس منظر میں دو مذہبی تنظیموں کو کا لعد م قرار دینے کی محکمہ داخلہ کو سفارش کی جاسکتی ہے۔ اداروں نے نشا ند ہی کی ہے کہ ہنگامہ آرائی کا باعث بننے والے عناصر عید میلا د النبی کے جلوسوں کو بھی اپنے سیا سی مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کر سکتے ہیں اس ساری صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے پنجاب میں سیکورٹی پلا ن ترتیب دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق وزیر مملکت اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا محمد افضل خان نے کہا کہ حکومت تحریک لبیک کو بین کرانے کے لئے آرٹیکل 17 لائے تو مسلم لیگ ن تحریک انصاف کا ساتھ دے گی،دھرنے ختم ہونے میں مولانا سمیع الحق کا خون بھی شامل ہے ،پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنی بدتمیزی کا رخ اب پیپلز پارٹی کی طرف کر دیا ہے، وزیر اطلاعات ہی اپنی پارٹی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں، جب حکومت سے باتیں سننے کو ملیں گی تو (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی

بھی جواب دیں گی،نجی ٹی وی چینل ’’ہم نیوز‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے رانا محمد افضل خان کا کہنا تھا کہ حکومت کو آسیہ بی بی کیس کے فیصلے کے بارے میں پہلے سے آگاہ تھی لیکن حکومت نے کوئی تیاری نہیں کی،توہین رسالت کیس میں حکومت کی نا اہلی کھل کر سامنے آئی ہے ،تحریک لبیک کو اندازہ تھا کہ فیصلہ کیا آنا ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے احتجاج کی مکمل تیاری کی ہوئی تھی لیکن حکومت سوئی ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہتوہین رسالت کیس کا فیصلہ محفوظ ہو گیا تھا ،حکومت نے اس کے بعد رینجرز کو موو کیا ،ریڈ زون سمیت ہر حساس جگہ کو پروٹیکٹ کیا لیکن جس جگہ سے اصل تھریڈ تھی حکومت نے اپنی نا اہلی کی وجہ سے اسے نظر انداز کر دیا تھا ،احتجاج اور توڑ پھوڑ کے دوران ہمیں کہیں پولیس نظر نہیں آئی کہ آگ لگانے والوں کو کسی کا خوف ہوتا ۔انہوں نے کہا کہ دھرنے ختم ہونے میں مولانا سمیع الحق کا خون بھی شامل ہے، فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ” آپ کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا‘‘اور یہ بات مولانا سمیع الحق کےساتھ سچی ثابت ہوئی اور آج تک پتا نہیں چلا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ؟ پی ٹی آئی اپنی نالائقی سے ملکی اکانومی کو اتنا

نقصان نہیں پہنچا رہی جتنا اکیلے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اپنی پارٹی کو پہنچا رہے ہیں،تہذیب اور شائستگی تو ان کے قریب سے بھی نہیں گذری ،مولانا سمیع الحق کے قتل سے خادم رضوی کا گروہ ڈر گیا اور انہوں نے سمجھا کہ شائد یہ ہمیں بھی جان سے مار دیں ،دھرنے اور احتجاج ختم کروانے میں حکومت کا کوئی کمال نہیں ہے یہ تو مولانا سمیع الحق کا خون رنگ دکھا گیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں