آسیہ بی بی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک خبر نے دھرنوں اور احتجاج والوں کو ہکا بکا کر ڈالا




لاہور (ویب ڈیسک) مجھے کسی کے بیان اور کسی کی بات پر غوروفکر کرنے کی عادت ہے۔ اسی عادت سے مجبور ہو کر میں نے چیف جسٹس صاحب کو بھارتی چینلز پر پابندی لگانے پر غور کیا، تو میں سوچنے لگا کہ چیف جسٹس صاحب نے نجانے بھارتی فلموں پر پابندی کیوں نہیں لگائی۔

نامور کالم نگار نواز خان میرانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔بعض اوقات میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے پاکستانی عوام کے مفاد میں بے شمار ازخود نوٹس لیکر فیصلے کیئے ہیں، مگر ان کے کچھ فیصلے سمجھ سے باہر متضاد نوعیت کے لگتے ہیںیوں محسوس ہوتا ہے کہ چیف صاحب کوئی واضح موقف نہیں اپنا سکے، چونکہ انہوں نے خود یہ اختیار دیا ہے کہ کسی کو بھی ہمارے فیصلوں سے اختلاف کا حق ہے۔ اور کلمہ حق والا یہی حق استعمال کر رہا ہے۔ موجودہ بیس کروڑ کال کوٹھڑی میں بند عوام کو یہ کہا جا رہا ہے آئندہ قیمتیں کم ہو جائیں گی، گزشتہ 70 سال میں تو وطن میں آج تک کسی بھی چیز کی بڑھی ہوئی قیمت آج نہیں گھٹی اب کیسے کم ہو گی؟ جہاں وزیرخزانہ کی تعلیم محض ایم بی اے ہو اور انکا تجربہ محض اینگرویوریا میں سی ای او کا ہے اور جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دور میں اینگرویوریا کی قیمت دوگنی ہوگئی۔ جبکہ تحریک انصاف کے پاس احمد سومرو جیسے مستند ماہر اقتصادیات موجود ہیں مگر عمران خان کہتے ہیں کہ میں اسد عمر سے وعدہ کر چکا تھا۔ پٹرول کی قیمت ان 75 دنوں میں کئی دفعہ بڑھی

بجلی کی قیمت بار بار بڑھائی گئی نئے پاکستان کے اردوبولنے والے شہر سے تعلق رکھنے والا اور جس کی مادری زبان بھی اردو بتائی جاتی ہے نئے پاکستان کے اسلامی مملکت پاکستان کے صدر فرماتے ہیں کہ ان کی اردو کمزور ہے مجھے اردو نہیں آتی۔ نئے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان بھی ہنگامی نشریاتی تقریر میں فرماتے ہیں کہ جس کی بالکل ضرورت نہیں تھی انہوں نے کہا کہ تیسرے درجے کے عوام آسیہ کی رہائی پر ہنگامہ بازی پر اتر آئے ہیں۔ اور وہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ غیرمسلم ہیں، میں حیران ہوں کہ ان کو تقریر کا مشورہ کس نے دیا ہے۔ میرے جیسے اکثر گھروں میں بیٹھنے والے اصحاب جنکو پتہ ہی نہیں کہ باہر کیا ہو رہا ہے اسکو بتایا جا رہا ہے کہ آسیہ کو چھوڑنے کی وجہ سے ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے، ہو سکتا ہے کہ آسیہ کے بدلے شاید عافیہ صدیقی کی رہائی کی کوئی سبیل نکالی جا رہی ہو۔ آج کل تو گائے، بھینسوں کے مقدمات سپریم کورٹ میں نمٹائے جا رہے ہیں، وزیراعظم اپنے نبی کو محمد صلی اللہ و آل وسلم کہتے ہیں جبکہ صحیح لفظ صلی اللہ علیہ وسلم ہے چیف جسٹس کہتے ہیں یہ کیسا ملک ہے، کیا یہ ہے نیا پاکستان، ملک کسی کی مرضی پر نہیں، قانون کے مطابق چلے گا، کیا بجلی، گیس اور پٹرول کو ناقابل اختیار بنانا قانون کے مطابق ہے؟ چیف جسٹس نے وزیراعظم کو نقشہ منظور کرائے بغیر جرمانے پر بھی صوابدیدی اختیار دے دیا مگر قانونی دستاویزات رکھنے والے لاکھوں گھروں کو بیدردی سے مسمار کرنے پر چیف جسٹس اور وزیراعظم دونوں متفق تھے۔ چیف جسٹس فرماتے ہیں کہ پہلی دفعہ محسوس ہو رہا ہے کہ ملک ترقی کی جانب ”ٹیک آف“ کر رہا ہے یہ سن کر ایک سوال میرے ذہن میں آ رہا ہے کہ کیا ملک کا چیف جسٹس سیاسی بیان دے سکتا ہے؟ خواہ اسکا سیاق و سباق کچھ بھی ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں