بھارت پاکستان کے خلاف جنگ کاخواہشمند صرف ایک چیز کی وجہ سے اسے مشکلات کاسامنا




اسلام آباد(ویب ڈیسک )مشیر نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) لیفٹننٹ جنرل (ر) خالد قدوانی نے کہا کہ بھارت جن ہتھیاروں کو خریدنے کے معاہدے کر رہا ہے پاکستان کے پاس ان کا جواب پہلے سے ہی موجود ہے، لیکن پاکستان کو بھارت کی ہتھیاروں کی دوڑ میں آگے نکلنے کی حکمتِ عملی سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے اور اسٹریٹیجک توازن کوبرقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔جنوبی ایشیا میں جوہری مزاحمت اور استحکام کی حکمت عملی پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر این سی اے کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح بے پرواہ رہا ہے، ہمارے پاس ایسے آپشنز موجود ہیں جو خطے میں طاقت کے توازن میں بگاڑ پر ردِ عمل کے طور پر استعمال کیے جاسکتے ہیں۔اسٹریٹیجگ ویژن انسٹیٹیوٹ (ایس وی آئی) میں ہونے والی اس تقریب کے دوران لیفٹننٹ جنرل (ر) خالد قدوانی کی گفتگو کا محور بھارت اور روس کے درمیان ہونے والی ایس 400 میزائل سسٹم کا معاہدہ تھا۔خیال رہے کہ بھارت گزشتہ ایک دہائی سے اپنی فوج کے بلیسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم کو مزید بہتر کرنے کے لیے کام کر رہا ہے اور ایس 400 سسٹم کا معاہدہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔مشیر این سی اے کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ اس ٹیکنالوجی کے بارے میں کافی عرصے سے بات کر رہے ہیں اور یہ بھی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ بھارتی فوج میں اس نظام کی شمولیت سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا، تو یہ کہنا بالکل غلط ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی اسٹریٹیجک قوت کی پیش رفت کی تاریخ رہی ہے کہ اس نے کبھی بھی خطے میں طاقت کے توازن کو اس طرح بگڑنے نہیں دیا جس میں اس کا نقصان ہو۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم وقت کے ساتھ ساتھ بھارت کی جانب سے طاقت کے عدم توازن پر بہتر اور موزوں حل نکالتے رہے ہیں‘۔لیفٹننٹ جنرل (ر) خالد قدوانی نے بتایا کہ پاکستان کے پاس بھارت کے بی ایم ڈی نظام کے خلاف موثر حل ایم آئی آر وی ٹیکنالوجی اور 4 قسم کے کروز میزائلوں کی شکل میں موجود ہے۔واضح رہے کہ بھارت نے بی ڈی ایم نظام کے حصول کے لیے اپنے دفاعی شراکت دار اسرائیل سے معاہدہ کیا ہوا ہے۔مشیر این سی اے نے بتایا کہ بی ڈی ایم کے نظام کی ابھی بات جاری ہے، بھارت جن ہتھیاروں کو خریدنے کی بات کر رہا ہے پاکستان کے پاس اس کا جواب پہلے سے ہی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کئی عرصے قبل اینٹی بلیسٹک میزائل نظام نہ بنانے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا تھا جو آج بھی اس کے لیے موثر ثابت ہو رہا ہے۔اس موقع پر ایس وی آئی کے صدر ڈاکٹر ظفر اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کے خلاف محدود جنگ کے لیے مواقع پیدا کرنے کی کوشش میں ہے، تاہم پاکستان کی ٹیکٹیکل ڈیٹیرنس کی وجہ سے اسے مشکلات کا سامنا ہے، اور یہی ’پاکستان کاخطے میں امن کے لیے کردار ہے‘۔انہوں نے زور دیا کہ بھارت نئے ہتھیاروں کے حصول سے خطے کو ہتھیاروں کی دوڑ کی جانب لے کر جارہا ہے، جس کے ناقابلِ تلافی نقصانات سامنے آسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں