وزیراعظم عمران خان تاریخ میں پہلی بار فوج سے متعلق کونسا فیصلہ کرنیوالے ہیں جو آج تک کوئی وزیراعظم نہ کر سکا




پاکستان میں پہلی مرتبہ ڈی جی آئی ایس آئی کا انتخاب خود وزیراعظم کی جانب سے کیے جانے کا امکان، عام طور پر اس اہم عہدے پر تعیناتی کا فیصلہ فوج خود کرتی تھی اور مجوزہ نام کی سمری پر وزیر اعظم دستخط کرتے تھے، تاہم ماہرین نے اس حوالے سے وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات کو اہم قرار دے

دیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل نوید مختار اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ جنرل نوید مختار کے بعد نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے انتخاب کے حوالے سے سول و عسکری قیادت کے درمیان غور و فکر جاری ہے۔ بی بی سی اردو کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے کے لیے زیر غور لیفٹیننٹ جنرلز میں ندیم زکی منج، عاصم منیر، وسیم اشرف، عبدالعزیز اور محمد عدنان شامل ہیں۔جبکہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ڈی جی آئی ایس آئی کا انتخاب خود وزیراعظم کی جانب سے کیے جانے کا امکان ہے۔ ماہرین نے اس حوالے سے وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات کو اہم قرار دے دیا ہے۔ بی بی سی اردو کے مطابق تجزیہ کار اس معاملے پر وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات کو اہم سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے پہلے عام طور پر اس اہم عہدے پر تعیناتی کا فیصلہ فوج خود کرتی تھی اور مجوزہ نام کی سمری پر وزیر اعظم دستخط کرتے تھے۔لیکن واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری وزیر عظم کی صوابدید ہے اور ادارہ بھی قانون کے تحت وزیر اعظم کے ماتحت ہے۔ اس طرح ڈی جی آئی ایس آئی وزیر اعظم اور فوجی سربراہ دونوں کو ہی جوابدہ ہوتے ہیں۔ اس لیے مرتبہ امکان یہی ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کا انتخاب روایت سے ہٹ کر کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں