عافیہ صدیقی کی رہائ کے لیے امریکہ نے شرائط کا اعلان کر دیا

Dr. Affia Siddique




فوزیہ صدیقی کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کی جانب سے اس طرح کے لیے اشارے ملے ہیں تاہم امریکہ کے مبینہ مطالبات کے بارے میں تفصیلات وہ وزیرِ خارجہ سے ملنے سے پہلے بیان نہیں کر سکتیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا ہے کہ امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ایلس ویلز کے حالیہ دورہِ پاکستان کے دوران پاکستانی حکام نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ اٹھایا اور ایلس ویلز نے پاکستانی درخواست پر غور کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

اس کے علاوہ پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے جلد اسلام آباد میں ملاقات کریں گے۔

گذشتہ روز پاکستانی دفترِ خارجہ کی ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ امریکی شہر ہیوسٹن میں پاکستانی قونصل جنرل وقتاً فوقتاً عافیہ صدیقی سے ملاقات کرتے ہیں۔ تازہ ترین ملاقات نو اکتوبر کو ہیش آئی جس میں عافیہ صدیقی نے وزیراعظم عمران خان کے نام پیغام میں کہا کہ وہ پاکستان آنا چاہتی ہیں۔

عافیہ صدیقی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ عمران خان کو اپنے ہیروز میں سے ایک گنا ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ عمران خان تمام مسلمانوں کے خلیفہ بن جائیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی نے دعویٰ کیا کہ جون میں ایک پاکستانی قونصلر کی ملاقات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کو امریکی جیل حکام یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر تم اپنا دین بدل لو تو تمھیں فوراً رہا کر دیں گے۔

فوزیہ صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق عافیہ صدیقی کو جنسی طور پر بھی ہراساں کیا جا رہا ہے اور انھیں عبادت بھی نہیں کرنے دی جا رہی۔

فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ عافیہ صدیقی کو واپس لانے کے تین راستے ہیں۔

پہلا تو یہ کہ پاکستان اُس عالمی معاہدے کا شریک بن جائے جس میں مجرمان کو اپنے ملک منتقل کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ پہلے سے ہی اس معاہدے پر دستخط کر چکا ہے تاہم پاکستان اس معاہدے کا رکن نہیں۔ اس حوالے سے درکار ایک قانونی نقطہ عافیہ صدیقی کی جانب سے اس منتقلی کی درخواست تھی اور فوزیہ صدیقی کے مطابق عافیہ صدیقی کی جانب سے عمران خان کو پیغام اسے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

فوزیہ صدیقی کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کے نائب اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بروس شوارٹس نے ایک خط میں کہا ہے کہ اگر پاکستان اس معاہدے میں شرکت کر لیتا ہے تو امریکہ عافیہ صدیقی کو واپس بھیجنے کے لیے تیار ہوگا۔ اگرچہ فوزیہ صدیقی کے پاس مذکورہ خط موجود نہیں مگر ان کے مطابق یہ پاکستانی حکام کے پاس موجود ہے۔

فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ عافیہ کو پاکستان لانے کا دوسرا راستہ امریکہ اور پاکستان کے مذاکرات ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس حوالے سے امریکہ نے مثبت اشارے دیے ہیں تاہم ان کی تفصیلات وہ وزیرِ خارجہ سے ملاقات کے بعد ہی ظاہر کر سکتی ہیں۔

فوزیہ صدیقی نے کہا کہ تیسرا راستہ صدارتی معافی کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کے دورِ حکومت میں عافیہ صدیقی کی صدارتی معافی کی تیاری کی جا رہی تھی تاہم پاکستانی حکومت نے بروقت کارروائی نہیں کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں