یہ کیا کسی کے باپ کا مال ہے جو۔۔۔اہم کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس برہم

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ نے ایف 6 میں پراپرٹی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پگڑیوں پر اراضی کی خرید وفروخت غیر قانونی قراردےدی ،چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کسی کے باپ کا مال ہے جو رفاحی پلاٹ پر قبضہ کرلے، عدالت نے پگڑیوں پرخریدوفروخت کرنیوالوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے ایف 6 میں پراپرٹی سے متعلق کیس کی سماعت

کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سوئمنگ پول کی جگہ پر 3 منزلہ پلازہ بن چکا ہے،گراؤنڈ فلورپر 33 دکانیں ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہ سیدھا سیدھا نیب کیس ہے،سی ڈی اے بھی متعلقہ افسران کوگرفتارکرے،چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کے باپ کا مال ہے جو رفاحی پلاٹ پر قبضہ کرلے،عدالت نے پگڑیوں پرخریدوفروخت کرنیوالوں کی تفصیلات طلب کرلیں اور کیس کولارجربنچ میں لگانے کی ہدایت کردی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کادوبارہ جائزہ لےکرحتمی حکم دیں گے،بیچارے کرایہ دار اس معاملے پر کیوں پریشان ہوں۔عدالت نے پگڑیوں پراراضی کی خریدوفروخت غیر قانونی قراردیتے ہوئے کہا کہ پگڑی لینا غیرقانونی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں