ڈی پی او پاکپتن اور خاور مانیکا کیس پر وزیراعظم عمران خان نے خاموشی توڑ دی۔۔ دوٹوک جواب دے دیا

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ڈی پی او پاکپتن کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، ڈی پی او پاکپتن سے متعلق حقائق جلد سامنے آجائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان آج یہاں وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کرنے والے سینئر اینکرز سے گفتگو کررہے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ کفایت شعاری کی یہ مہم تین ماہ جاری رہے گی۔ڈاکٹر عشرت حسین کفایت شعاری سے متعلق کام کررہے ہیں۔ ابھی بین الاقوامی دورے اس وقت میری ترجیحات

میں نہیں۔ ماضی میں غیرملکی دوروں پراربوں روپے خرچ کیے گئے۔ لیکن میں صرف پاکستان کے مفاد میں ہی غیرملکی دورہ کروں گا۔ اقوام متحدہ کے اجلاس میں جاکر4 روز ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ جو ہم نے حکومتی ٹیم چنی ہے ان کا ماضی کیا تھا اس کا ذمہ دارنہیں ہوں۔ٹیم کو بتا دیا ہے کہ حال میں ایک روپے کی بھی ہیر پھیر برداشت نہیں کروں گا۔ ملاقات سے متعلق سینئر صحافی حامد میر نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے عثمان بزدار کو دلیر آدمی قرار دیا انہوں نے کہا کہ عثمان بزدار دلیر آدمی ہیں۔ عثمان بزدار کو میں نے خود نامزد کیا ہے۔ عثمان بزدار کومستقل وزیراعلیٰ لائے ہیں۔ تھوڑا وقت دیں ، سب عثمان بزدار کی تعریف کریں گے۔مجھے، میری ٹیم اور وزیراعلیٰ پنجاب کوتین ماہ دیں۔ پھرکارکردگی پربات کریں اورپھر احتساب کریں۔ تنقید ضرور کریں، گھبراتا نہیں مسائل حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تین ماہ میں گڈ گورننس کے معاملے میں واضح تبدیلی دیکھیں گے۔ سب عثمان کی تعریف کریں گے۔ عمران خان نے کہا کہ چیئرمین نیب کوکہا ہے بلاامتیاز احتساب کیا جائے۔چیئرمین نیب کوکہا حکومتی رکن بھی کرپشن میں ملوث ہوتوکارروائی کریں۔احتساب ہونے پرکچھ لوگ کہیں گے کہ جمہوریت خطرے میں ہے۔ پاکستان میں کوئی سفارش نہیں چلے گی۔ اپنے وژن کوبلاخوف آگے لیکر چلوں گا۔ گردشی قرضے بارہ سوارب

تک پہنچ گئے ہیں۔ جب تک ملک میں احتساب نہیں ہوگا ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے ہیلی کاپٹر معاملے پربتایا کہ عوام کو زحمت سے بچانے کیلئے ہیلی کاپٹرکا استعمال کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملکی تاریخ کی کمزور ترین اپوزیشن ہے۔ہمیں اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا وعدہ پورا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ امریکا کی کوئی غلط بات نہیں مانی جائے گی۔ امریکا سے تعلقات بہتر کریں گے لڑنہیں سکتے۔ ملکی مفاد کے خلاف ہونےوالے معاہدے منسوخ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایچ کیو کا دورہ بہت اچھا رہا۔ جی ایچ کیو دورے میں کہا گیا ادارہ آپ کے پیچھے ہے۔انہوں نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ جمہوریت کے حامی ہیں۔ معاشی اور عسکری و خارجہ پالیسی پرسول ملٹری قیادت نے ساتھ ملنے کے عزم کااعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ، افغانستان،، ایران اور امریکا سے پرامن تعلقات چاہتے ہیں۔ ملاقات میں ڈی پی او پاکپتن کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ڈی پی او پاکپتن سے متعلق حقائق سپریم کورٹ میں سامنے آجائیں گے۔ سینئر صحافی نے بتایا کہ صحافیوں سے ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان کوفرانسیسی وزیراعظم کی دو بار فون کالز آئیں لیکن وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ابھی مصروف ہوں تھوڑی دیر تک بات کروں گا

اپنا تبصرہ بھیجیں